Pangolin
ہمارے ملک کا ایک انتہائی معصوم اور بے ضرر جانور صرف جھوٹی افواہوں اور جہالت کی وجہ سے بے دردی سے مارا جا رہا ہے؟ ہم بات کر رہے ہیں "پینگولن" کی، جسے عام زبان میں کھپرے دار چیونٹی خور بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا شرمیلا جاندار ہے جس کا پورا جسم سخت چھلکوں سے ڈھکا ہوتا ہے، لیکن اس کے بارے میں ہمارے معاشرے میں چند خوفناک اور من گھڑت کہانیاں مشہور کر دی گئی ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ قبریں کھود کر مردے نکالتا ہے، جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ یہ منحوس ہے یا جادوئی آگ لگاتا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اس بے زبان کے منہ میں دانت تک نہیں ہوتے! یہ گوشت کھا ہی نہیں سکتا۔ اس کی کل خوراک صرف دیمک اور چیونٹیاں ہیں، جنہیں یہ اپنی لیس دار زبان سے کھاتا ہے۔ یہ ہر سال کروڑوں دیمک کھا کر ہماری فصلوں اور درختوں کو تباہ ہونے سے بچاتا ہے اور ہمارے ماحول کے لیے ایک بہترین "پیسٹ کنٹرولر" کا کام کرتا ہے۔ دنیا بھر میں پینگولن کی مجموعی طور پر 8 اقسام پائی جاتی ہیں، جنہیں دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ایشیائی اقسام : انڈین پینگولن : یہ پاکستان (خاص طور پر پوٹھوہار، پنجاب اور خیبر پختونخوا)، بھ...