تنزانیہ کی لیک نیٹرون
تنزانیہ کی لیک نیٹرون (Lake Natron) واقعی زمین پر موجود چند پراسرار ترین اور خوفناک ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ انٹرنیٹ پر ایسی بہت سی تصاویر وائرل ہیں جن میں پرندوں اور چمگادڑوں کو پتھر کے مجسموں کی شکل میں جھیل کے کنارے بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ بظاہر یہ کسی جادوئی فلم کا منظر لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک مکمل تیکنیکی، سائنسی اور کیمیائی حقیقت چھپی ہوئی ہے یہ جھیل کسی جاندار کو فوراً یا سیکنڈوں میں پتھر کا مجسمہ نہیں بناتی (جیسا کہ افواہوں میں مانا جاتا ہے)، بلکہ یہ حنوط کاری کا ایک قدرتی عمل ہے۔نیٹرون کا کیمیکل: اس جھیل کا نام "نیٹرون" اس میں پائے جانے والے ایک قدرتی مرکب نیٹرون کی وجہ سے رکھا گیا ہے، جو بنیادی طور پر سوڈیم کاربونیٹ اور بیکنگ سوڈا کا مکسچر ہوتا ہے۔ یہ مادہ پاس موجود ایک فعال آتش فشاں اول ڈوینیو لنگائی کی راکھ سے بہتا ہوا اس جھیل میں آتا ہے۔شدید الکلائن پانی: اس کیمیکل کی وجہ سے جھیل کے پانی کی تیزابیت یعنی پی ایچ لیول $pH \approx 10.5$ سے 12 تک پہنچ جاتا ہے، جو تقریباً امونیا یا بلیچ جتنا تیز ہوتا ہے۔ یہ پانی کسی بھی جاندار کی جلد اور آنکھوں کو سیک...