Animals and Birds

ہمارے ملک کا ایک انتہائی معصوم اور بے ضرر جانور صرف جھوٹی افواہوں اور جہالت کی وجہ سے بے دردی سے مارا جا رہا ہے؟

ہم بات کر رہے ہیں "پینگولن"  کی، جسے عام زبان میں کھپرے دار چیونٹی خور بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک شرمیلا جاندار ہے جس کا پورا جسم سخت چھلکوں سے ڈھکا ہوتا ہے، لیکن اس کے بارے میں ہمارے معاشرے میں چند خوفناک اور من گھڑت کہانیاں مشہور کر دی گئی ہیں۔

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ قبریں کھود کر مردے نکالتا ہے، جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ یہ منحوس ہے یا جادوئی آگ لگاتا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اس بے زبان کے منہ میں دانت تک نہیں ہوتے! یہ گوشت کھا ہی نہیں سکتا۔ اس کی کل خوراک صرف دیمک اور چیونٹیاں ہیں، جنہیں یہ اپنی لیس دار زبان سے کھاتا ہے۔ یہ ہر سال کروڑوں دیمک کھا کر ہماری فصلوں اور درختوں کو تباہ ہونے سے بچاتا ہے اور ہمارے ماحول کے لیے ایک بہترین "پیسٹ کنٹرولر" کا کام کرتا ہے۔

دنیا بھر میں پینگولن کی مجموعی طور پر 8 اقسام پائی جاتی ہیں، جنہیں دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے

ایشیائی اقسام 

انڈین پینگولن : یہ پاکستان خاص طور پر پوٹھوہار، پنجاب اور خیبر پختونخوا، بھارت اور نیپال میں پایا جاتا ہے۔ اس کے چھلکے سب سے بڑے ہوتے ہیں۔

چائنیز پینگولن : یہ چین اور نیپال کے پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور اس کے کان باہر کی طرف واضح ہوتے ہیں۔

سنڈا پینگولن : یہ جنوب مشرقی ایشیا کے جنگلات میں پایا جاتا ہے اور درختوں پر چڑھنے کا ماہر ہے۔

فلپائن پینگولن : یہ صرف فلپائن کے مخصوص جزائر تک محدود ہے اور اس کا جغرافیائی دائرہ سب سے چھوٹا ہے۔

افریقی اقسام 

 جائنٹ پینگولن : یہ تمام اقسام میں سب سے بڑا ہے، جس کا وزن 40 کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔

گراؤنڈ پینگولن : یہ افریقہ کے خشک میدانوں میں رہتا ہے اور اکثر اپنے پچھلے دو پیروں پر انسانوں کی طرح چلتا ہے۔

وائٹ بیلیڈ پینگولن : یہ چھوٹے سائز کا ہوتا ہے اور اس کے پیٹ پر سفید بال ہوتے ہیں۔

بلیک بیلیڈ پینگولن : اس کی دُم جسم سے بھی لمبی ہوتی ہے اور یہ دن کے وقت بھی سرگرم ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے، روایتی ادویات کے جھوٹے دعووں اور اسمگلنگ کی وجہ سے یہ دنیا کا سب سے زیادہ غیر قانونی شکار ہونے والا ممالیہ جانور بن چکا ہے اور اب اس کا وجود ختم ہو رہا ہے۔ پینگولن کے چھلکے بالکل اسی مادے (کیراٹن) سے بنے ہیں جس سے ہمارے ناخن اور بال بنتے ہیں، اس لیے ان میں کوئی جادوئی یا طبی فائدہ نہیں ہے۔

یہ معصوم جانور ہمارا دوست ہے، دشمن نہیں۔ آئیں اس کے بارے میں سچ پھیلائیں، افواہوں کا خاتمہ کریں اور اپنی جنگلی حیات کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر آپ کو کہیں بھی یہ جانور نظر آئے تو اسے نقصان پہنچانے کے بجائے فوری طور پر محکمہ وائلڈ لائف کو اطلاع دیں۔


کنگ فشر پرندہ 

کنگ فشر یعنی ماہی خور محض ایک خوبصورت پرندہ ہی نہیں ہے، بلکہ یہ پرندوں کی دنیا کا ایک انتہائی ماہر شکاری اور قدرت کا ایک سائنسی شاہکار ہے۔ اس کی باڈی انجینئرنگ اور حیاتیاتی صلاحیتیں اتنی کمال کی ہیں کہ یہ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں پانی کے اندر جا کر اپنا شکار دبوچ لاتا ہے۔

یہ پرندہ فضا سے پانی کے اندر 40 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی تیز رفتار سے ڈائیو (غوطہ) لگا سکتا ہے۔

ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت: اس پورے شکار کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ کنگ فشر کا پانی کی سطح میں داخل ہونا، مچھلی کو پکڑنا اور واپس سطح پر آنا—یہ پورا عمل ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں مکمل ہو جاتا ہے۔ اتنی تیز رفتاری کی وجہ سے مچھلی کو بچنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔

گہرائی کا توازن: یہ عام طور پر پانی کی سطح سے 25 سے 60 سینٹی میٹر کی اتھلی گہرائی میں غوطہ لگاتا ہے۔

آنکھوں کا لینس اور پانی کا ٹکراؤ: جب یہ ہوا سے پانی میں داخل ہوتا ہے، تو اس کی آنکھوں پر ایک قدرتی شفاف جھرلی اجاتی ہے جو چشمے کا کام کرتی ہے۔ یہ پانی کے اندر اس کی نظر کو بالکل صاف رکھتی ہے اور پانی کے دباؤ سے آنکھوں کو بچاتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

The deepest cave in the world

Boni, Upper Chitral: A beautiful valley

The Ben Ben Pyramid