Posts

Showing posts from June, 2026

Animals and Birds

Image
ہمارے ملک کا ایک انتہائی معصوم اور بے ضرر جانور صرف جھوٹی افواہوں اور جہالت کی وجہ سے بے دردی سے مارا جا رہا ہے؟ ہم بات کر رہے ہیں "پینگولن"  کی، جسے عام زبان میں کھپرے دار چیونٹی خور بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک شرمیلا جاندار ہے جس کا پورا جسم سخت چھلکوں سے ڈھکا ہوتا ہے، لیکن اس کے بارے میں ہمارے معاشرے میں چند خوفناک اور من گھڑت کہانیاں مشہور کر دی گئی ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ قبریں کھود کر مردے نکالتا ہے، جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ یہ منحوس ہے یا جادوئی آگ لگاتا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اس بے زبان کے منہ میں دانت تک نہیں ہوتے! یہ گوشت کھا ہی نہیں سکتا۔ اس کی کل خوراک صرف دیمک اور چیونٹیاں ہیں، جنہیں یہ اپنی لیس دار زبان سے کھاتا ہے۔ یہ ہر سال کروڑوں دیمک کھا کر ہماری فصلوں اور درختوں کو تباہ ہونے سے بچاتا ہے اور ہمارے ماحول کے لیے ایک بہترین "پیسٹ کنٹرولر" کا کام کرتا ہے۔ دنیا بھر میں پینگولن کی مجموعی طور پر 8 اقسام پائی جاتی ہیں، جنہیں دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایشیائی اقسام  انڈین پینگولن : یہ پاکستان خاص طور پر پوٹھوہار، پنجاب اور خیبر پختونخوا، بھارت اور ن...

تنزانیہ کی لیک نیٹرون

Image
تنزانیہ کی لیک نیٹرون  (Lake Natron)  واقعی زمین پر موجود چند پراسرار ترین اور خوفناک ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ انٹرنیٹ پر ایسی بہت سی تصاویر وائرل ہیں جن میں پرندوں اور چمگادڑوں کو پتھر کے مجسموں کی شکل میں جھیل کے کنارے بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ بظاہر یہ کسی جادوئی فلم کا منظر لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک مکمل تیکنیکی، سائنسی اور کیمیائی حقیقت چھپی ہوئی ہے یہ جھیل کسی جاندار کو فوراً یا سیکنڈوں میں پتھر کا مجسمہ نہیں بناتی (جیسا کہ افواہوں میں مانا جاتا ہے)، بلکہ یہ حنوط کاری کا ایک قدرتی عمل ہے۔نیٹرون کا کیمیکل: اس جھیل کا نام "نیٹرون" اس میں پائے جانے والے ایک قدرتی مرکب نیٹرون کی وجہ سے رکھا گیا ہے، جو بنیادی طور پر سوڈیم کاربونیٹ اور بیکنگ سوڈا کا مکسچر ہوتا ہے۔ یہ مادہ پاس موجود ایک فعال آتش فشاں اول ڈوینیو لنگائی کی راکھ سے بہتا ہوا اس جھیل میں آتا ہے۔شدید الکلائن پانی: اس کیمیکل کی وجہ سے جھیل کے پانی کی تیزابیت یعنی پی ایچ لیول  $pH \approx 10.5$  سے 12 تک پہنچ جاتا ہے، جو تقریباً امونیا یا بلیچ جتنا تیز ہوتا ہے۔ یہ پانی کسی بھی جاندار کی جلد اور آنکھوں کو سیک...

گریٹ بلیو ہول (Great Blue Hole)

Image
گریٹ بلیو ہول (Great Blue Hole)  دنیا کا سب سے مشہور نیلا سوراخ Great Blue Hole گریٹ بلیو ہول وسطی امریکہ کے ملک  Belize  کے ساحل سے تقریباً 70 کلومیٹر دور واقع ایک دیوہیکل سمندری گڑھا ہے۔ یہ دنیا کے مشہور ترین قدرتی عجائبات میں شمار ہوتا ہے۔ بنیادی معلومات قطر: تقریباً 318 میٹر گہرائی: تقریباً 124 میٹر مقام: بیلیز کے سمندر میں شکل: تقریباً مکمل گول اوپر سے دیکھنے پر یہ سمندر کے نیلے پانی کے درمیان ایک گہرے نیلے دائرے کی طرح نظر آتا ہے، اسی وجہ سے اسے "بلیو ہول" کہا جاتا ہے۔ یہ کیسے بنا؟ ہزاروں سال پہلے جب سمندر کی سطح موجودہ سطح سے کافی نیچے تھی تو یہ علاقہ ایک چونے کے پتھر کی غار تھا۔ بعد میں برفانی دور کے خاتمے پر سمندر کی سطح بلند ہوئی اور غار پانی میں ڈوب گئی۔ غار کی چھت گرنے سے یہ دیوہیکل سوراخ وجود میں آیا۔ اندر کیا ہے؟ غوطہ خوروں نے اس کے اندر بڑے بڑے چونے کے ستون  (stalactites)  دریافت کیے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ جگہ کبھی خشک غار تھی۔ دلچسپ حقائق یہ خلا سے بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔ دنیا بھر کے غوطہ خور یہاں آنا پسند کرتے ہیں۔ سوراخ کے اندر رو...

تال جھیل

Image
  فلپائن میں وَلکن پوائنٹ کے گرد مرکوز مشہور جغرافیائی تشکیل زمین پر "تیسرے درجے کے جزیرے" کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔ یہ پیچیدہ ارضیاتی خصوصیت، جو منیلا سے تقریباً 30 میل جنوب میں واقع ہے، ایک نادر درجہ بندی کا نمونہ پیش کرتی ہے: وَلکن پوائنٹ کا چھوٹا سا جزیرہ مین کریٹر جھیل کے اندر واقع ہے، جو خود آتش فشاں جزیرے (وولکینو آئی لینڈ) کے کیلڈیرا کو بناتا ہے۔ آتش فشاں جزیرہ (وولکینو آئی لینڈ) اس سے بھی بڑی تال جھیل (لیک تال) میں واقع ہے، جو مکمل طور پر مرکزی جزیرے لوزون پر موجود ہے۔ یہ شاندار منظر نامہ قدیم زمانے میں انتہائی دھماکہ خیز آتش فشانی پھٹنے سے تشکیل پایا، جس کی وجہ سے بڑے بڑے کیلڈیرا منہدم ہوئے اور ہزاروں سالوں میں آہستہ آہستہ پانی سے بھر گئے۔ اگرچہ یہ ترتیب مکمل طور پر مستقل معلوم ہوتی ہے، لیکن یہ نازک نظام انتہائی متحرک ہے کیونکہ تال فلپائن کا دوسرا سب سے زیادہ فعال آتش فشاں ہے۔ جنوری 2020 میں ایک بڑے میگمائی پھٹنے کے دوران، مین کریٹر جھیل مکمل طور پر بخارات بن کر خشک ہو گئی، جس سے عارضی طور پر جھیل کے اندر جزیرے کی یہ تہہ دار تشکیل ٹوٹ گئی۔ بعد ازاں اُسی سال بارش کے...