اینٹیکیتھیرا میکانزم
۔1901 میں یونان کے جزیرے
Antikythera
کے قریب غوطہ خور ایک قدیم جہاز کے ملبے کی تلاش کر رہے تھے۔ انہیں سونے، مجسموں اور دیگر قیمتی نوادرات کے ساتھ ایک زنگ آلود کانسی کا عجیب سا ٹکڑا بھی ملا۔ ابتدا میں کسی نے اس پر خاص توجہ نہ دی، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ انسانی تاریخ کی سب سے حیران کن سائنسی دریافتوں میں سے ایک ہے۔
اس آلے کو بعد میں اینٹیکیتھیرا میکانزم کا نام دیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ تقریباً 100 سے 200 قبل مسیح کے درمیان بنایا گیا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس میں 30 سے زیادہ انتہائی باریک کانسی کے گیئرز (Gears) موجود تھے، جو ایک پیچیدہ مشین کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے تھے۔
جب سائنس دانوں نے جدید ایکس رے اور تھری ڈی اسکیننگ کی مدد سے اس کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ محض ایک گھڑی نہیں بلکہ ایک قدیم اینالاگ کمپیوٹر تھا۔ یہ سورج، چاند اور اس وقت معلوم سیاروں کی حرکت کا حساب لگا سکتا تھا، قمری اور شمسی گرہنوں کی پیش گوئی کرتا تھا، اور قدیم یونانی کیلنڈر کے مطابق تاریخ بھی بتاتا تھا۔
یہ دریافت اس لیے حیران کن تھی کیونکہ اس درجے کی گیئر ٹیکنالوجی دوبارہ یورپ میں تقریباً ایک ہزار سال بعد نظر آئی۔ اس سے پہلے ماہرین کا خیال تھا کہ اتنی پیچیدہ مشینیں قدیم دنیا میں موجود ہی نہیں تھیں۔
اگرچہ آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس عظیم آلے کا اصل موجد کون تھا، لیکن کچھ محققین کا خیال ہے کہ اس کا تعلق
Hipparchus یا Archimedes
کی سائنسی روایت سے ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کا کوئی قطعی ثبوت موجود نہیں۔
اینٹیکیتھیرا میکانزم کو ممکنہ طور پر ایک امیر شخص یا ماہر فلکیات استعمال کرتا تھا تاکہ آسمانی اجسام کی حرکت کو سمجھا جا سکے۔ اس کے اندر موجود گیئرز کی درستگی آج بھی انجینئرز اور سائنس دانوں کو حیران کرتی ہے۔
آج اس کے اصل ٹکڑے
National Archaeological Museum
میں محفوظ ہیں، جبکہ دنیا بھر کے سائنس دان اس کے مکمل ڈیزائن کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اینٹیکیتھیرا میکانزم اس بات کا ثبوت ہے کہ قدیم تہذیبیں سائنس اور انجینئرنگ میں ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ تھیں۔ یہ مشین آج بھی "دنیا کا پہلا کمپیوٹر" کہلاتی ہے اور تاریخ کے سب سے بڑے سائنسی رازوں میں شمار ہوتی ہے۔

Comments
Post a Comment