296) سوکوترا جزیرہ
یہ جزیرہ بحر ہند میں یمن کے ساحل سے تقریباً 380 کلومیٹر دور واقع ہے۔ کروڑوں سالوں تک بقیہ دنیا سے بالکل الگ تھلگ رہنے کی وجہ سے یہاں کا ایکو سسٹم اور ماحول دنیا کے کسی بھی دوسرے حصے سے مختلف ہے۔منفرد نباتات: سوکوترا پر پائی جانے والی پودوں اور درختوں کی تقریباً 37 فیصد اقسام دنیا میں اور کہیں نہیں پائیں جاتیں۔ اسی منفرد جغرافیے کی بنا پر اسے یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے
ڈریگن بلڈ ٹری :اس درخت کا سائنسی نام
Dracaena cinnabari
ہے اور یہ سوکوترا جزیرے کی سب سے بڑی پہچان ہے۔
چھتری نما بناوٹ: اس کے اوپر شاخیں اور پتے ایک الٹی چھتری یا مشروم کی طرح پھیلے ہوتے ہیں۔ یہ ساخت درخت کو شدید گرمی اور خشک موسم میں اپنی جڑوں کے گرد سائبان بنا کر نمی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
سرخ گوند : جب اس درخت کے تنے یا شاخوں پر کٹ لگایا جاتا ہے تو اس میں سے گاڑھا سرخ رنگ کا گوند نکلتا ہے، جسے قدیم زمانے میں "اژدہا کا خون" کہا جاتا تھا۔
تاریخی اور طبی استعمال:
قدیم دور میں رومن اور یونانی لوگ اسے زخموں کے علاج، درد کش ادویات اور بخار دور کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
اس سرخ گوند کو رنگ سازی، وارنش (ایک قسم کا پالش جو وائلن اور لکڑی کی اشیاء پر کی جاتی ہے) اور کاسمیٹکس کے سامان میں بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

Comments
Post a Comment